اسلام آباد(پاکستان امیج)آئل اینڈ گیس اتھارٹی (اوگرا) کے لیے مقرر کیے گئے ایک آزاد مشیر نے گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات (UFG) کو آئندہ پانچ برسوں میں مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز دے دی ہے، جبکہ گیس کمپنیوں نے آئندہ مالی سال کے لیے ٹیرف میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک مؤقر انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اوگرا 12 اور 13 مئی کو لاہور اور کراچی میں عوامی سماعتیں کرے گا، جہاں سوئی ناردرن اور سوئی ساؤدرن گیس کمپنیوں کی درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔
دونوں کمپنیوں نے بالترتیب تقریباً 21 فیصد اور 121 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کی استدعا کی ہے۔
مشاورتی فرم KPMG Taseer Hadi & Co نے سفارش کی ہے کہ یو ایف جی کی شرح کو بتدریج کم کرتے ہوئے مالی سال 2027 میں 6.5 فیصد سے گھٹا کر 2031 تک 5.5 فیصد تک لایا جائے۔ تاہم مقامی مسائل کے پیش نظر ایس این جی پی ایل کے لیے اضافی 0.5 فیصد اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 1.7 فیصد رعایت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اس طرح ایس این جی پی ایل کے لیے یو ایف جی شرح 2027 میں تقریباً 7 فیصد اور 2031 تک 6 فیصد تک آ سکتی ہے، جبکہ ایس ایس جی سی ایل کے لیے یہ شرح 8.2 فیصد سے کم ہو کر 7.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ اس وقت سسٹم لاسز کی مجموعی شرح تقریباً 7.6 فیصد ہے، جبکہ حقیقی نقصانات ایس این جی پی ایل کے لیے 8.8 فیصد اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 13.6 فیصد ہیں۔
اوگرا نے اس سے قبل مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث گیس، خصوصاً ایل این جی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعتیں مؤخر کر دی تھیں۔ تاہم قوانین کے تحت ریگولیٹر کو 30 جون سے 40 دن پہلے ٹیرف کا فیصلہ دینا لازمی ہے تاکہ حکومت یکم جولائی سے نئی قیمتوں کا اطلاق کر سکے۔
حکومت آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے تحت گیس نرخوں کا بروقت اعلان کرنے کی پابند بھی ہے، تاکہ گردشی قرضے میں مزید اضافہ روکا جا سکے، جو پہلے ہی 3 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
Pakistan Image