اسلام آباد(پاکستان امیج)عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعوے کے ساتھ رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت اگلے ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہے جس کے پیش نظر متعلقہ حکام نے مذاکرات کی میز سجانے کی تیاریاں تیز کردیں۔ اگرچہ بیانات میں سختی برقرار ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے امکانات اب بھی مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
مذاکرات سے پہلے وفاقی دارالحکومت میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ کم از کم دو بڑے ہوٹلز، جن میں سرینا ہوٹل بھی شامل ہے جہاں ماضی میں اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں، کو خالی کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ جمعہ تک نئی بکنگ روک دی گئی ہے۔ اس دوران سیکیورٹی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں، امریکی فوج کے دو سی 17 گلوب ماسٹر طیاروں کی آمد کے بعد ایئرپورٹ سے ریڈ زون جانے والی سڑک کو وقتی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات کے باعث شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی نقل و حرکت محدود رہے گی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھاری ٹریفک اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی روک دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران سیکیورٹی کے لیے تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔ ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو رنگین پھولوں سے سجانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Pakistan Image