اسلام آباد(پاکستان امیج)حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں کمی کے بجائے موٹرسائیکل سواروں کو 2000 روپے ماہانہ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ نے 430 ارب روپے کے دستیاب ہنگامی فنڈز کے استعمال سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو معمولی ماہانہ مالی اعانت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم کابینہ کے بعض وزرا کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کٹوتی اور اس مد میں ہونے والے ریونیو نقصان کو 430 ارب روپے کے ہنگامی بجٹ سے پورا کرنے کی تجویز کو وزارت خزانہ نے مسترد کر دیا ہے۔
وزیراعظم کی ریلیف اسکیم کی منظوری
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ریلیف اسکیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے ہوگا۔
اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل مالکان کو پیٹرول کی ہوشربا قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے تقریباً 2000 روپے ماہانہ ادا کیے جانے کا امکان ہے۔
اس ریلیف کی شفاف فراہمی کے لیے وزارت ’آئی ٹی‘ کی جانب سے ایک جدید طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی رقم کا فیصلہ وزیراعظم خود کریں گے۔
بھاری ٹیکس اور ریلیف کا حجم
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پیٹرول پر 106 روپے فی لیٹر (کل قیمت کا 28 فیصد) اور ڈیزل پر 101 روپے فی لیٹر (کل قیمت کا 25 فیصد) ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
موجودہ قیمتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو 2000 روپے کا ریلیف بمشکل 5 لیٹر پیٹرول کے برابر بنتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے اس اسکیم کو صرف موٹرسائیکل مالکان تک محدود رکھا، تو اس سے چھوٹی گاڑیوں کے مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے سے جنم لینے والی مہنگائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
’آئی ایم ایف‘ کے اعتراض کا دعویٰ اور حقائق
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزراء نے تجویز دی تھی کہ ہنگامی فنڈز کو استعمال کر کے لیوی میں کمی کی جائے، لیکن وزارت خزانہ نے یہ کہہ کر مزاحمت کی کہ اس سے ’آئی ایم ایف‘ پروگرام متاثر ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، ’آئی ایم ایف‘ کی تیسری جائزہ رپورٹ واضح طور پر تجویز کرتی ہے کہ موجودہ غیر یقینی معاشی حالات اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فنڈز کو عوام کے ریلیف اور مالیاتی
خطرات کے دفاع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ملک میں حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے کا غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول 376 روپے اور ڈیزل 403 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔
مئی میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تجویز دی تھی کہ پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا جائے۔ تاہم وزارت خزانہ نے اسے نظرانداز کر کے لیوی کو 80 روپے تک بڑھانے کی منظوری دی۔
اب ان جابرانہ ٹیکسوں کے خلاف عوامی غیض و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور جماعت اسلامی نے اسی مناسبت سے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھی ’ایف بی آر‘ کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عوام سے 1.567 ٹریلین روپے کی ریکارڈ لیوی وصول کی گئی تھی۔
ایک معاشی تجزیہ کار کے زاویہ نگاہ سے حکومت کا موٹرسائیکل مالکان کو 2000 روپے دینے کا فیصلہ ایک سطح اور عارضی سیاسی اقدام ہے، جو عوام کی تکالیف کا حقیقی مداوا نہیں۔
وزارت خزانہ کا 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز کو استعمال نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معاشی ترجیحات میں عوام کا براہ راست ریلیف شامل نہیں ہے۔
اگر ’ایف بی آر‘ کے 2.2 ٹریلین روپے کے شارٹ فال کے باوجود ’آئی ایم ایف‘ کا 7 ارب ڈالر کا پروگرام معطل نہیں ہوا، تو لیوی میں چند روپے کی کمی سے یہ کیسے خطرے میں پڑ سکتا ہے؟
یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ حکومت ساختی اصلاحات اور اشرافیہ پر ٹیکس لگانے کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں، بالخصوص پیٹرولیم لیوی کو آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ سمجھتی ہے۔
اگر لیوی کم کر کے ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت کو نیچے نہ لایا گیا، تو ایسی معمولی ریلیف اسکیمیں معاشی اور سماجی بے چینی کو ختم کرنے میں یکسر ناکام ثابت ہوں گی۔
Check Also
سونے اور چاندی کے بھاؤ میں کمی؟ جانیے اتوار 13 ستمبر کو فی تولہ کتنے میں ہے دستیاب
کراچی (پاکستان امیج)پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹس میں آج بروز اتوار 13 ستمبر 2026 کو …
Pakistan Image