بڑھتی مہنگائی اور عالمی دباؤ، نئی مانیٹری پالیسی سے قبل اسٹیٹ بینک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار

اسلام آباد(پاکستان امیج)عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مقامی مہنگائی میں تیزی کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان پیر کو متوقع مانیٹری پالیسی اجلاس میں شرح سود کے حوالے سے کڑے امتحان کا شکار ہے۔
تجارتی حلقے موجودہ شرح برقرار رکھنے کے حق میں ہیں جبکہ کچھ ماہرین اس میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
خلیجی خطے میں جاری طویل جنگ اور عالمی کشیدگی نے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو معاشی اور مانیٹری پالیسیوں پر واضح مؤقف اپنانے میں شدید مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔
بحیرہ احمر تک پھیلنے والی اس جنگ کی وجہ سے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
مالی سال 27-2026 میں مہنگائی کی شرح میں اضافے اور عالمی سطح پر بلند شرح سود کے رجحان نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو محتاط قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔
شرح سود میں اضافے کا خدشہ یا ’اسٹیٹس کو‘؟
پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر تمام تر تجارتی اور صنعتی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اس وقت ملک میں بنیادی شرح سود 11.5 فیصد کی سطح پر ہے، جسے تاجر اور صنعت کار مسابقتی مارکیٹوں کے مقابلے میں پہلے ہی بہت زیادہ قرار دے رہے ہیں۔
بینکاروں کی اکثریت اس بات کی توقع کر رہی ہے کہ مرکزی بینک موجودہ شرح سود کو برقرار (اسٹیٹس کو) رکھے گا، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سٹیٹ بینک اپنی مانیٹری پالیسی میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر سکتا ہے۔
’ٹریسمارک‘ کے حالیہ پول کے مطابق 20 فیصد ادارہ جاتی تاجر پیر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہے ہیں۔
عالمی مہنگائی اور اسٹیٹ بینک کی مجبوری
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اس سے قبل 27 اپریل کو عالمی توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین کے خطرات کے پیش نظر شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد تک پہنچا دیا تھا۔
اگست میں مہنگائی کی شرح دوبارہ 2 ہندسوں میں داخل ہو کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ ایک سینیئر بینکر کے مطابق مرکزی بینک کو طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ہوگا اور افراطِ زر کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے شرح سود میں معمولی اضافے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑ سکتا ہے۔
مالیاتی اداروں کی پیشگوئیاں
’ٹریسمارک‘ کے سی ای او فیصل ممسا کا کہنا ہے کہ، ’پاکستان کی شرح سود کا منظر نامہ اب صرف ہماری مقامی مہنگائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ اب ہر کسی کا مسئلہ بن چکا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹوں میں بے چینی ہے، برینٹ کروڈ 105 ڈالر سے اوپر ہے، یورپی سینٹرل بینک نے اپنی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے اور امریکی مہنگائی بھی 3.4 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ مسائل پاکستان سے شروع نہیں ہوئے، لیکن اسٹیٹ بینک کو بہرحال ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
’بلومبرگ اکنامکس‘ اور ’بی ایم آئی‘ نے بھی پیر کے اجلاس میں ’اسٹیٹس کو‘ کی توقع ظاہر کی ہے، لیکن مستقبل میں شرح سود پر دباؤ بڑھنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند سالوں سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بیرونی قرضوں، درآمدی بلوں میں اضافے اور عالمی منڈی میں ایندھن کے بحران نے براہ راست مقامی مہنگائی کو ہوا دی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا بنیادی کام افراطِ زر کو کنٹرول کرنا ہے جس کے لیے روایتی طور پر شرح سود بڑھانے کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف جائزہ رپورٹ: مضبوط پالیسی اقدامات سے پاکستانی معیشت میں بہتری ، مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات سے خبردار کردیا
تاہم مسلسل بلند شرح سود نے ملک میں صنعتی پہیے کی رفتار کو سست کر دیا ہے، جس سے بیروزگاری اور پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مرکزی بینک ایک دو دھاری تلوار پر چلنے پر مجبور ہے۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس اس وقت آپشنز انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچھال اور سپلائی چین کے تعطل کے اثرات مقامی مارکیٹ پر آنا ناگزیر ہے۔
جب یورپی سینٹرل بینک جیسی بڑی مانیٹری اتھارٹیز شرح سود بڑھا رہی ہوں، تو پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ملک کے لیے اس رجحان کے خلاف جانا معاشی خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔
اگر پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی موجودہ 11.5 فیصد کی شرح کو برقرار رکھتی ہے تو یہ صنعتوں کے لیے عارضی سکھ کا سانس ضرور ہوگا، لیکن درآمدی مہنگائی اور 11.1 فیصد پر پہنچی ہوئی افراطِ زر جلد ہی مزید سخت فیصلوں کا تقاضا کرے گی۔
حتمی طور پر حکومت کو محض مانیٹری پالیسی کے سہارے جینے کے بجائے مالیاتی نظم و ضبط اور توانائی کے متبادل ذرائع پر تیزی سے کام کرنا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن کے اچانک جھٹکوں کو برداشت کیا جا سکے۔

Please follow and like us:
Pin Share

Check Also

سونے اور چاندی کے بھاؤ میں کمی؟ جانیے اتوار 13 ستمبر کو فی تولہ کتنے میں ہے دستیاب

کراچی (پاکستان امیج)پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹس میں آج بروز اتوار 13 ستمبر 2026 کو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *