خیبرپختونخوا(پاکستان امیج)(ضلع خیبر کے علاقے ورمنڈومیلہ میں 1975 میں تعمیر ہونے والا بوائز پرائمری اسکول خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں 200 طلبہ کو خطرناک عمارت اور صرف 2 اساتذہ کے سہارے تعلیم دی جا رہی ہے۔
خیبر بختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے ورمنڈومیلہ میں قائم بوائز پرائمری اسکول کی عمارت کئی دہائیوں سے عدم توجہی کا شکار ہے اور اب اس کی حالت اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسکول کی عمارت 1975 میں تعمیر کی گئی تھی۔ تقریباً نصف صدی گزرنے کے بعد 3 کمروں پر مشتمل یہ عمارت اپنی مدتِ استعمال پوری کر چکی ہے اور فوری مرمت یا ازسرنو تعمیر کی متقاضی ہے۔
خستہ حال عمارت میں تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنا کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی ایک بنیادی ضرورت ہے۔
200 طلبہ، سہولیات ناکافی
اسکول میں تقریباً 200 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، تاہم بچوں کی تعداد کے مقابلے میں بنیادی تعلیمی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی، سردی اور بارش کے دوران بھی طلبہ کو مناسب کلاس رومز کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور بعض اوقات انہیں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے۔
کلاس رومز کی کمی کے ساتھ اسکول میں دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان بھی طلبہ کے تعلیمی معمولات کو متاثر کر رہا ہے۔ والدین کے لیے بھی یہ صورتحال باعث تشویش ہے کہ ان کے بچے ایک ایسی عمارت میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
7 جماعتوں کے لیے صرف 2 اساتذہ
مسئلے کا ایک اور اہم پہلو اسکول میں تدریسی عملے کی شدید کمی ہے۔ تقریباً 200 طلبہ کے لیے صرف 2 اساتذہ تعینات ہیں، جو اسکول کی تمام 7 جماعتوں کو پڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
طلبہ کی تعداد اور جماعتوں کی مجموعی تعداد کو دیکھا جائے تو موجودہ تدریسی عملہ مطلوبہ تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتا ہے۔
اساتذہ پر اضافی بوجھ پڑنے کے ساتھ طلبہ کو بھی انفرادی توجہ اور معیاری تدریس کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
عمارت کے ساتھ تدریسی بحران بھی حل کرنا ہوگا
ماہرِ تعلیم کے مطابق کسی بھی سرکاری اسکول میں معیاری تعلیم کے لیے صرف اساتذہ کی تعیناتی کافی نہیں، بلکہ محفوظ عمارت، مناسب کلاس رومز، بنیادی سہولیات اور طلبہ کے تناسب سے تدریسی عملہ بھی ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق ورمنڈومیلہ اسکول کی صورتحال میں بیک وقت 2 بڑے مسائل نمایاں ہیں: ایک طرف عمارت کی خستہ حالی بچوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، تو دوسری جانب 200 طلبہ کے لیے صرف 2 اساتذہ کی موجودگی تعلیمی معیار کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔
ماہرِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکول کی عمارت کی فوری تکنیکی جانچ، خطرناک حصوں کی نشاندہی اور ضرورت کے مطابق نئی عمارت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعداد کے تناسب سے اضافی اساتذہ کی تعیناتی بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر صرف عارضی مرمت سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہوگا۔
حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
علاقہ مکینوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ورمنڈومیلہ بوائز پرائمری اسکول کی خستہ حال عمارت کا فوری معائنہ کرایا جائے اور اسے تبدیل کرکے نئی عمارت تعمیر کی جائے۔
مطالبے میں کہا گیا ہے کہ اسکول میں طلبہ کی تعداد کے مطابق مزید کلاس رومز اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بچوں کو موسم کی شدت اور دیگر مشکلات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس کے علاوہ 200 طلبہ کے لیے صرف 2 اساتذہ کی تعیناتی کا مسئلہ بھی فوری طور پر حل کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق مزید تدریسی عملہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
محفوظ تعلیمی ماحول ناگزیر
ورمنڈومیلہ کے اسکول کی صورتحال قبائلی اضلاع میں سرکاری تعلیمی اداروں کی بنیادی ضروریات اور انفراسٹرکچر پر مسلسل توجہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو خستہ حال عمارت، ناکافی کلاس رومز اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہو تو اس کے اثرات صرف موجودہ تعلیمی عمل تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں کے مستقبل اور تعلیمی معیار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسکول کی عمارت، کلاس رومز اور تدریسی عملے کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے اور بچوں کو محفوظ، مناسب اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
Check Also
ملک میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا فروغ، طویل مدتی سرمایہ کاری بڑھانے کی تجویز
کراچی(پاکستان امیج) سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس کے …
Pakistan Image